
کانگریس کے رہنما نے کہا کہ اگر ہندوستان امریکی کپاس درآمد کرتا ہے تو مقامی کسانوں کی پیداوار متاثر ہوگی اور انہیں قیمتوں میں گراوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب اگر یہ شرط قبول نہیں کی جاتی تو ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو عالمی منڈی میں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورت حال ’آگے کنواں پیچھے کھائی‘ جیسی ہے، جہاں دونوں راستے مشکلات کی طرف لے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کپاس کی کاشت اور ٹیکسٹائل صنعت کروڑوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ ایسے میں کسی بھی غیر متوازن معاہدے کا اثر لاکھوں خاندانوں کی معاشی حالت پر پڑ سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی کابینہ نے ایسا سمجھوتہ کیا ہے جو طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔






