
جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی تین رکنی بنچ نے جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فریق بنایا گیا ہے تاکہ اس معاملے پر ایک قومی پالیسی بنائی جا سکے۔ عدالت نے کہا کہ آوارہ کتوں کے مسئلے پر انسانوں کے تحفظ اور جانوروں کے حقوق دونوں کا توازن ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ جو کتے پکڑے گئے ہیں، انہیں لازمی ویکسین دی جائے اور اس کے بعد ہی واپس سڑکوں پر چھوڑا جائے۔ ریبیز سے متاثر یا آوارہ کتوں میں سے جو بیمار یا انتہائی حملہ آور ہوں، انہیں شیلٹر ہوم میں ہی رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔






