ایران پر ہوئے حملے میں وہاں کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت ہو چکی ہے۔ اس کے بعد بھی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوام کو درپیش مسائل اور امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملے پر کانگریس لیڈر پریکا گاندھی کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت نکالنے کی اپیل بھی کی ہے۔
پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کسی خود مختار ریاست کی قیادت کا ٹارگٹڈ قتل اور بڑی تعداد میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکتیں خواہ اس کے پیچھے جو بھی وجوہات بیان کی گئی ہوں، قابل مذمت ہیں اور ان کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ بے حد افسوسناک ہے کہ اب کئی ممالک اس تنازعہ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ دنیا کو مزید غیر ضروری جنگوں کی نہیں، بلکہ امن کی ضرورت ہے۔ جو لوگ اس کے فیصلے لے رہے ہیں، انہیں مہاتما گاندھی کے الفاظ یاد رکھنے چاہئیں کہ ’آنکھ کے بدلے آنکھ پوری دنیا کو اندھا بنا دیتی ہے‘۔
پرینکا گاندھی نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ مجھے امید ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم اور صدر ٹرمپ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بعد، ہمارے وزیراعظم متاثرہ ممالک میں پھنسے ہوئے تمام ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت وطن واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ واضح رہے کہ ان حملوں کی وجہ سے پوری دنیا میں فلائٹ سروسز بری طرح متاثر ہو گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسافر پریشان ہو رہے ہیں اور لوگ اس وقت ایئرپورٹ پر ہی رات گزارنے کو مجبور ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل-ایران جنگ کے درمیان مشرق وسطیٰ میں حالات تیزی سے بگڑ گئے ہیں، جس کا اثر دبئی سے لے کر ہندوستان تک نظر آ رہا ہے۔ کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جس سے دنیا بھر کی پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ ایئر انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ یکم مارچ تک کے لیے کئی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ڈی جی سی اے نے بھی ایئر لائنز کو 11 ممالک کی فضائی حدود سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ کشیدگی والے علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں ہندوستانی شہری بھی موجود ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































