
معین شاداب نے گفتگو میں اس پہلو پر بھی زور دیا کہ ملا کی غزل میں جذبے کی سچائی اور بیان کی سادگی انہیں اپنے عہد کے منفرد شعرا میں شامل کرتی ہے۔ ان کے مطابق ملا کے یہاں عشق کا تصور بھی حقیقت اور شدت کے ساتھ موجود ہے، جیسے اس شعر میں:
عِشق کرتا ہے تو پھر عِشق کی توہین نہ کر
یا تو بے ہوش نہ ہو، ہو تو نہ پھر ہوش میں آ
ملا کی شاعری میں محبت کا لطیف زاویہ بھی نمایاں ہے، جسے یہ شعر خوب ظاہر کرتا ہے:
تم جس کو سمجھتے ہو کہ ہے حُسن تمہارا
مجھے تو وہ اپنی ہی محبت نظر آئی
یہ قسط نہ صرف طالب علموں، محققین اور نئے قارئین کے لیے مفید ہے بلکہ اردو ادب کے ہر ذوق رکھنے والے کے لیے بھی ایک اہم حوالہ ثابت ہوتی ہے۔






