آسٹریلیا-برطانیہ میں عوام کو سہولتیں مل رہیں، لیکن مودی حکومت نے یکم اپریل سے کئی چیزوں کی قیمتیں بڑھا دیں: کانگریس

AhmadJunaidJ&K News urduApril 1, 2026358 Views


کانگریس نے کہا کہ جب دقتوں اور مہنگائی کی بات کرو تو حکومت کے چاپلوس پاکستان و نیپال جیسے چھوٹے ممالک کے برے حال کا حوالہ دینے لگتے ہیں۔ ہم اپنا موازنہ برطانیہ-آسٹریلیا سے کریں گے یا بدحال پاکستان سے؟

<div class="paragraphs"><p>مودی حکومت میں مہنگائی عروج پر، علامتی تصویر (اے آئی)</p></div><div class="paragraphs"><p>مودی حکومت میں مہنگائی عروج پر، علامتی تصویر (اے آئی)</p></div>

i

user

یکم اپریل سے ہندوستان میں کئی چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خصوصاً  کمرشیل ایل پی جی سلنڈر، پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں اور ٹول ٹیکس میں اضافہ سے عام لوگوں پر زبردست اثر پڑا ہے۔ اس تعلق سے کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’خلیج میں جنگ ہو رہی ہے، لیکن مودی حکومت کو لفاظی سے ہی فرصت نہیں۔ بے چاری عوام مہنگائی کی مار برداشت کر رہی ہے۔‘‘

کانگریس نے پارٹی ترجمان سپریا شرینیت کی ایک ویڈیو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کی ہے، جس میں وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی عوام مخالف پالیسیوں پر حملہ کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ ’’آج یکم اپریل سے ہندوستان میں تمام چیزوں کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھا دی گئی ہیں۔ کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 218 روپے بڑھائی گئی، پریمیم پٹرول کی قیمت 11 روپے فی لیٹر بڑھائی گئی، پریمیم ڈیزل 1.5 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا، ٹول ٹیکس 10 فیصد مہنگا ہوا، فاسٹیگ پاس کی قیمت 75 روپے بڑھائی گئی، 900 دواؤں کی قیمتیں 10 فیصد بڑھائی گئیں جن میں بخار، لیور، کڈنی، بی پی، ذیابیطس کی دوائیں شامل ہیں۔‘‘

اس ویڈیو میں کانگریس ترجمان نے مزید کچھ اہم چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کا ذکر بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’5 روپے والا بسکٹ اب 6 روپے میں ملے گا، 30 روپے والی بریڈ اب 35 روپے میں فروخت ہوگی، 100 روپے کی چپل اب 120 روپے میں خریدی جا سکے گی۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتی ہیں کہ پہلے بھی ایل پی جی، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں، اب ایک بار پھر انھیں مہنگا کر دیا گیا ہے۔

سپریا شرینیت نے آسٹریلیا اور برطانیہ کی مثال پیش کر مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے، جہاں عالمی بحران والی حالت میں عوام کو کئی طرح کی سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ آسٹریلیا کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’آسٹریلیا کی حکومت نے 3 ماہ کے لیے پٹرول 26 سینٹ سستا کر دیا، ایکسائز ڈیوٹی نصف کر کے براہ راست فائدہ عوام کو دیا ہے، اور ٹرک والوں کے لیے ’روڈ یوزر چارج‘ مفت کر دیا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ ہونے والی چیزیں (مثلاً دودھ، پھل، سبزی، انڈے، گوشت وغیرہ) مہنگی نہ ہوں۔‘‘ برطانیہ کے تعلق سے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’برطانوی حکومت نے ہر کنبہ کو بجلی بل پر 100 پاؤنڈ کی چھوٹ دی ہے۔‘‘

ویڈیو میں سپریا شرینیت اس بات پر ناراض دکھائی دیتی ہیں کہ جب بھی ہندوستان میں مہنگائی کی بات کی جاتی ہے تو حکومت کی چاپلوسی کرنے والے پاکستان اور نیپال جیسے بدحال ممالک کا حوالہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب بھی دقتیں اور مہنگائی کی بات کرو تو ’چرن چمبک‘ پاکستان اور نیپال جیسے چھوٹے ممالک کے برے حال کا حوالہ دینے لگتے ہیں۔ ہم اپنا موازنہ برطانیہ اور آسٹریلیا سے کریں گے، یا بدحال پاکستان سے؟‘‘ مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت کی کوئی ذمہ داری ہے یا نہیں؟ یا لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر ’مہامانو‘ (انسانِ عظیم) صرف تشہیر کرتے پھریں گے؟ لوگوں کو راھت دینا حکومت کا کام ہے، کب تک جھن جھنا بجا کر جملے پھینکتے رہیں گے؟‘‘

ویڈیو کے آخر میں سپریا شرینیت نے کہا کہ ’’کچھ سیکھیے ان ممالک سے جو اپنی عوام کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ کی طرح ان کو ان کے حال پر نہیں چھوڑ دیتے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے اہم اشیا کی قیمتوں میں اضافہ پر آج کئی سوشل میڈیا پوسٹ جاری کی ہیں۔ کسی پوسٹ میں پی ایم مودی کو ’مہنگائی مین‘ بتایا گیا ہے، تو کسی پوسٹ میں ضروری چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کو عوام کے لیے ’بمپر مہنگائی کا تحفہ‘ کہہ کر طنز کیا گیا ہے۔ خاص طور سے ایل پی جی بحران معاملہ میں کانگریس مستقل مودی حکومت کو نشانے پر لے رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...