آسام میں حد بندی کے بعد پہلا اسمبلی انتخاب… دیپرا سرمابروا

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 15, 2026361 Views


آسام میں حد بندی سے قبل 126 میں سے 30 انتخابی حلقوں میں مسلم ووٹرس کا دبدبہ تھا۔ حد بندی کے بعد ایسے انتخابی حلقوں کی تعداد نصف ہو جانے کا اندازہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ووٹرس کی فائل تصویر، آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>ووٹرس کی فائل تصویر، آئی اے این ایس</p></div>

i

user

آسام میں اس بار کا اسمبلی انتخاب 2023 میں ہونے والی متنازعہ حد بندی (Delimitation) کے بعد پہلا اسمبلی انتخاب ہوگا۔ حد بندی کے بعد 126 میں سے تقریباً 40 حلقے متاثر ہوئے ہیں، جس سے کافی ابہام پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ حلقوں کی مجموعی تعداد وہی ہے، لیکن کئی کے نام بدل گئے ہیں۔ حدود تبدیل ہو چکی ہیں اور بعض صورتوں میں 2 الگ الگ حلقوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ مثلاً ہاجو کا نیا نام سوالکوچی، اور بھبنی پور کا سوربھاگ ہو گیا۔

اس کے باعث گوہاٹی کے بہت سے ووٹرس کو بھی یہ اندازہ نہیں کہ وہ کس حلقے میں شامل ہیں۔ یہ ابہام سیاسی پارٹیوں کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔ ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آر) کے بعد 10 فروری 2026 کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری حتمی فہرست کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے سامنے مزید ایک چیلنج یہ ہے کہ حلقوں کی بدلی ہوئی نوعیت اور آبادیاتی ساخت کو مدنظر رکھتے ہوئے موزوں امیدوار تلاش کیے جائیں۔

2022 میں جموں و کشمیر میں بھی اسی نوعیت کی حد بندی کی گئی تھی تاکہ مخصوص نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ جموں و کشمیر میں 6 نئے حلقے شامل کیے گئے، جبکہ آسام میں اسمبلی نشستوں کی تعداد برقرار رکھی گئی۔ تاہم آسام کابینہ نے 4 اضلاع کو دوبارہ ان کے پرانے اضلاع میں ضم کر دیا، جس سے اضلاع کی تعداد 35 سے کم ہو کر 31 رہ گئی۔ اس انضمام کے نتیجے میں کئی مسلم اکثریتی حلقے —جنوبی سلمارا، بارپیٹا (2 نشستیں)، درانگ، نوگاؤں، سبساگر، ہیلکانڈی اور کریم گنج— ختم ہو گئے، جبکہ ہندو اور قبائل اکثریتی نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

جموں و کشمیر کی طرح آسام میں بھی حد بندی کے بعد مختلف آبادی والے حلقے ایک دوسرے سے متصل بنا دیے گئے۔ مختلف حد بندی کمیشنوں نے اقلیتوں کو مزید حاشیے پر ڈالنے کے لیے بڑی اور چھوٹی آبادی والے حلقے ساتھ ساتھ بنانے میں جھجک نہیں دکھائی۔

حد بندی سے پہلے 126 میں سے 30 حلقوں میں مسلم ووٹروں کا غلبہ تھا، جبکہ مزید 10 حلقوں میں وہ نتائج پر اثر انداز ہو سکتے تھے۔ حد بندی کے بعد ایسے حلقوں کی تعداد نصف رہ جانے کا اندازہ ہے (دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا کہنا ہے کہ آئندہ 15-10 برسوں میں ریاست میں ہندو اقلیت بن جائیں گے)۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 34 فیصد تھا اور موجودہ اسمبلی میں مسلم اراکین کی تعداد 31 ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کی تعداد کم ہو کر مجموعی اراکین کا چھٹا حصہ رہ جائے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کی قیادت والے اتحاد کو 75 نشستیں جبکہ کانگریس کی قیادت والے اتحاد کو 50 نشستیں ملی تھیں۔ کانٹے کے مقابلے میں ہر نشست اہمیت رکھتی ہے۔ اسی تناظر میں بی جے پی نے حد بندی اور خصوصی نظرثانی، دونوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریاست میں یہ دونوں معاملات کوئی بڑا سیاسی مسئلہ نہیں بن سکے۔ اپوزیشن نے حد بندی اور ایس آر کو ’طے شدہ حقیقت‘ سمجھ کر شاید ایک موقع گنوا دیا۔

اگرچہ انتخابی تاریخوں کے اعلان سے پہلے دونوں اتحاد غیر مستحکم دکھائی دیتے ہیں۔ علاقائی پارٹی ’رائجور دل‘ کی جانب سے جنوری تک نشستوں کی تقسیم طے کرنے کے الٹی میٹم کے باوجود کانگریس سے مذاکرات فروری تک جاری رہے۔ کانگریس اور لورِن جیوتی گگوئی کی ’آسام جاتیو پریشد‘ کے درمیان بھی بات چیت جاری ہے۔ اس دوران کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے 7 امیدواروں کا اعلان کر دیا، جو اتحاد میں دراڑ کی علامت ہے۔

اپوزیشن کے لیے مثبت پہلو یہ ہے کہ حکمراں این ڈی اے کو بھی اندرونی مشکلات درپیش ہیں۔ بی جے پی کے اندر بڑھتی کشمکش اور ہیمنت بسوا سرما مخالف گروپ کی سرگرمیوں کے علاوہ اتحادی پارٹیاں آسام گن پریشد (اے جی پی) اور بوڈولینڈ پیپلز فرنٹ (بی پی ایف) زیادہ نشستوں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ بی پی ایف اور پرمود بورو کی قیادت والی ’یونائیٹڈ پیپلز پارٹی لبرل‘ (یو پی پی ایل) کے درمیان تناؤ نے نشستوں کی تقسیم مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔ اے جی پی کو بی جے پی نچلے آسام کی مسلم اکثریتی نشستوں پر انتخاب لڑنے کے لیے کہہ رہی ہے۔ امکان ہے کہ انتخابات کے اعلان تک یہ معاملہ حل نہ ہو سکے۔

اسی تقسیم شدہ ماحول میں آسام بی جے پی کے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے ایک اینیمیشن شیئر کی گئی جس میں وزیر اعلیٰ کو کاؤ بوائے کے روپ میں دکھایا گیا تھا، جو ایک داڑھی والے شخص پر قریب سے گولی چلا رہے تھے۔ کیپشن تھا ’غیر ملکیوں سے پاک آسام‘ اور ’کوئی رحم نہیں‘۔ اس پر شدید رد عمل آیا اور پارٹی کو ویڈیو ہٹانی پڑی۔ بسوا سرما نے اس سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نہ انہوں نے یہ ویڈیو بنائی اور نہ شیئر کی۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ بنگلہ دیش سے دراندازوں کو نشانہ بنانا ان کا فرض ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب وہ ’میاں مسلمان‘ کہتے ہیں تو ان کی مراد بنگلہ دیشی بنگلہ بولنے والے مسلمان ہوتے ہیں، نہ کہ آسامیہ مسلمان۔

اب تک ان پر نفرت انگیز تقاریر کے الزامات کا قانونی اثر نہیں پڑا تھا، لیکن 40 سے زائد سرکردہ شہریوں نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے عدالتی مداخلت کی اپیل کی۔ معروف دانشوروں (جن میں ہیرین گوہین، مصنف اور سابق ڈی جی پی ہری کرشن ڈیکا، سابق آرچ بشپ تھامس مینمپرمپل، راجیہ سبھا رکن اجیت کمار بھویان اور ’نارتھ ایسٹ ناؤ‘ کے ایڈیٹر ان چیف پریش مالاکار شامل ہیں) نے اس خط پر دستخط کیے، جس میں شاعروں، ادیبوں، سابق آئی اے ایس افسران، سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم کی حمایت بھی شامل تھی۔

خط میں وزیر اعلیٰ کے ان بیانات کی نشاندہی کی گئی جن میں انہوں نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ یقینی بنائیں کہ ’میاؤں کو تکلیف ہو‘، اور حکام کو بھی اس کے لیے اوور ٹائم کام کرنے کا کہا تھا۔ دستخط کنندگان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات کسی آئینی منصب پر فائز شخص کو زیب نہیں دیتے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ نے بی جے پی کارکنوں کو ووٹر لسٹ میں ’میاؤں‘ کے خلاف اعتراضات داخل کرنے کی ہدایت دے کر خصوصی نظرثانی کے نیم عدالتی عمل میں مداخلت کی کوشش کی۔ مزید برآں، ان کے اس بیان کا حوالہ دیا گیا کہ اگر کوئی رکشہ چلانے والا ’میاں‘ ہے اور کرایہ 5 روپے بنتا ہے تو لوگوں کو صرف 4 روپے دینے چاہئیں۔ اسے ایک برادری کے خلاف جسمانی نقصان، معاشی امتیاز اور سماجی تذلیل کی براہ راست ترغیب قرار دیا گیا۔

کئی برسوں سے ہیمنت بسوا سرما ’میاں مسلمانوں‘ کو مختلف مسائل، حتیٰ کہ سبزیوں کی بڑھتی قیمتوں تک کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔ 2023 میں انہوں نے کہا تھا کہ دیہات میں قیمتیں کم ہیں، لیکن یہاں (مسلم فروش) مقامی آسامی لوگوں کو زیادہ قیمت پر سبزیاں فروخت کرتے ہیں۔ میڈیا نے ان بیانات کو نمایاں طور پر نشر کیا۔

کیا اس بار وہ حد سے آگے بڑھ گئے ہیں؟ کیا اقلیتوں کے خلاف بیانیہ اب مؤثر نہیں رہا؟ ہیمنت بسوا سرما کی جانب سے رکن پارلیمنٹ اور ریاستی کانگریس صدر گورو گگوئی کو ’پاکستانی ایجنٹ‘ قرار دینے کا وہ اثر نہیں ہوا جس کی توقع کی گئی تھی۔ آسام پولیس کی ایس آئی ٹی کی 2 گھنٹے طویل پریس کانفرنس سے 2 باتیں سامنے آئیں… گگوئی کی برطانوی اہلیہ نے ایک سال تک ایک پاکستانی این جی او کے لیے کام کیا تھا، اور گگوئی 2013 میں (رکن پارلیمنٹ بننے سے پہلے) پاکستان گئے تھے۔ بار بار لگائے جانے والے ان الزامات کا اثر مدھم پڑ چکا ہے۔ گگوئی نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ واقعی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تھے تو ایس آئی ٹی نے ان سے کبھی پوچھ گچھ کیوں نہیں کی؟

رائجور دَل کے سربراہ اکھل گگوئی نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ نے فیس بک پوسٹس اور نظموں پر لوگوں کو گرفتار کروایا ہے، لیکن وہ ایک ایسے لیڈر کو گرفتار نہیں کر پا رہے جس پر وہ سلامتی کے لیے خطرہ ہونے کا الزام لگا رہے ہیں!‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...