آسام انتخابات: ہمنتا بولے – اقتدار میں آنے پر 5 لاکھ بیگھہ زمین پر کی جائے گی بلڈوزر کارروائی

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 27, 2026357 Views


انتخابی مہم کے دوران آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں تقریباً 50 لاکھ بیگھہ زمین پر ‘غیر قانونی قبضہ’ ہے اور وہ اگلی حکومت بننے کے بعد 5 لاکھ بیگھہ زمین کو خالی کرائیں گے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے بدھ، 25 مارچ 2026 کو نگاؤں ضلع میں بی جے پی امیدوار روپک شرما کی حمایت میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کیا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے جمعرات (26 مارچ) کو کہا کہ اگر آئندہ اسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی حکومت دوبارہ اقتدار میں آتی ہے، تو وہ پانچ لاکھ بیگھہ زمین سے ‘قبضہ’ کرنے والوں کو بے دخل کر دے گی۔

مقامی خبروں کے مطابق، بجالی اسمبلی حلقہ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ پچھلے پانچ سالوں میں قبضہ کرنے والوں کو سبق سکھایا گیا ہے اور مقامی برادریوں پر ان کا دبدبہ کافی کم ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘پچھلے پانچ سالوں میں ہم نے 1.5 لاکھ بیگھہ زمین خالی کروائی، لیکن اگلے پانچ سالوں کے لیے ہمارا ہدف قبضہ شدہ پانچ لاکھ بیگھہ سرکاری زمین کو خالی کروانا ہوگا۔’

شرما نے زور دے کر کہا کہ آسام میں زمین پر صرف مقامی لوگوں کا ہی حق ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا، ‘بی جے پی ‘جاتی، ماٹی اور بھیٹی’ (لوگ، زمین اور بنیاد) کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، اور ہم کسی کو بھی اس کے خلاف کام نہیں کرنے دیں گے۔ غیر قانونی تارکین وطن سے سختی سے نمٹنا مقامی آبادی کے وجود کے لیے ضروری ہے اور ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔’

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے دعویٰ کیا،’آسام میں تقریباً 50 لاکھ بیگھہ زمین پر غیر قانونی قبضہ ہے۔ اگلی حکومت بننے کے بعد ہم مزید 5 لاکھ بیگھہ زمین کو خالی کرائیں گے۔ ہم بااثر لوگوں سے بھی زمین واپس لیں گے اور اسے غریبوں میں تقسیم کریں گے۔’

معلوم ہو کہ جولائی 2025 میں دھبری ضلع انتظامیہ نے ضلع کے بلاشپارہ میں آسام حکومت کی مجوزہ 3,400 میگاواٹ کے تھرمل پاور پلانٹ کے مقام پر 2,000 سے زیادہ میاں مسلمانوں کے گھروں کو منہدم کر دیا تھا۔

ریاست کے ریونیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2016 میں جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئی تھی، سے لے کر اگست 2025 تک، 15,270 خاندانوں– جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے— کو سرکاری زمین سے بے دخل کیا گیا ہے۔ 2016 سے اب تک کی گئی بے دخلی کے دوران کم از کم آٹھ مسلمانوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

اپنے خطاب میں آگے کانگریس پارٹی کے ‘بور آسام’ (گریٹر آسام) کے وژن پر بولتے ہوئے شرما نے آسام پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر گورو گگوئی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے الزام لگایا،’موجودہ صورتحال میں آسام میں کانگریس تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ گورو گگوئی نے گریٹر آسام کی بات کی، لیکن ان کے وژن میں مہاپرش شریمنت شنکردیو اور مادھو دیو کی کوئی جگہ نہیں ہے، جبکہ اذان فقیر شامل ہیں۔ وہ بنگلہ دیشی نژاد میاں لوگوں کو شامل کرتے ہوئے گریٹر آسام بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔’

اپنے مضبوط عوامی حمایت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے شرما نے جالکوباری اسمبلی حلقہ کا بھی ذکر کیا، جہاں سے وہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔

اسمبلی انتخابات سے پہلے ہمنتا بسوا شرما نے بارپیٹا میں ایک انتخابی جلسے کے دوران اپوزیشن لیڈروں پر سخت حملہ کیا۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے آسام جاتیہ پریشد (اے جے پی) کے لیڈر لورنجیوتی گگوئی پر طنز کرتے ہوئے ان کے سیاسی ارادوں پر سوال اٹھائے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا،’لورنجیوتی آئندہ انتخابات صرف اس لیے لڑ رہے ہیں تاکہ جلد شادی کر سکیں۔ ان کا منشور ہے— لوگوں، میں اب شادی کی عمر میں آ گیا ہوں، مجھے شادی کرنی ہے، لیکن جب تک میں ایم ایل اے نہیں بنوں گا، کوئی مجھ سے شادی نہیں کرے گا۔’

انہوں نے مزید کہا،’مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ جالکوباری میں میرے خلاف اپوزیشن نے کسے امیدوار بنایا ہے۔ بی جے پی کارکن میرے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ پچھلی بار مجھے 74 فیصد ووٹ ملے تھے اور اس بار مجھے 85-90 فیصد حمایت کی امید ہے۔’

پارٹی کے انتخابی روڈمیپ پر وزیر اعلیٰ نے ایک تفصیلی منشور کا اشارہ دیا۔

انہوں نے کہا،’ہمارے منشور میں 31 وعدے شامل ہوں گے۔ سرفہرست پانچ وعدوں کا ذکر پہلے ہی انتخابی جلسوں میں کیا جا چکا ہے۔ مکمل فہرست جلد جاری کی جائے گی۔’

‘نتون بور آسام’نعرہ، مقامی باشندوں کے بجائے ‘میاں’ کو فائدہ پہنچانے کی سازش: آسام بی جے پی صدر

وہیں، آسام بی جے پی کے صدر دلیپ سیکیہ نے جمعرات کو الزام لگایا کہ کانگریس کا ‘نتون بور آسام’ (نیا گریٹر آسام) کا نعرہ ایک ‘خطرناک سازش’ ہے، جس کا مقصد مقامی باشندوں کے حقوق کی قیمت پر ‘میاں’ کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست اور اس کے عوام کی حفاظت کے لیے براہ راست اور بالواسطہ دونوں طرح کے اقدامات کر رہی ہے، اور ان کوششوں کو نئے ووٹروں تک پہنچایا جائے گا۔

سیکیہ نے یہ بھی کہا کہ موجودہ شکل میں اپڈیٹ شدہ حتمی نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) بی جے پی کے لیے قابل قبول نہیں ہے، اور اگر 9 اپریل کے ریاستی انتخابات کے بعد پارٹی دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو اس میں اصلاح کی جائے گی۔

پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’کانگریس کے ‘نتون بور آسام’ نعرے کے پیچھے ایک بڑی سازش ہے۔ یہ ‘بور آسام’ ایسا ہوگا جہاں میا ں لوگوں کے حقوق مستقبل کے لیے محفوظ کیے جائیں گے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ تجاوزات سے آزاد کرائی گئی زمین واپس دی جائے گی— جنگلاتی زمین اور ہمارے مذہبی مقامات کی زمین بھی لوٹائی جائے گی۔ یہ اپیزمنٹ کی سیاست کا کانگریس کا خاکہ ہے، جو مقامی لوگوں کے خلاف اس کی پالیسی اور رویے کو ظاہر کرتا ہے۔’

‘میاں’ لفظ بنیادی طور پر آسام میں بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے لیے ایک توہین آمیز اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اور اس کا استعمال بنگلہ دیشی نژاد مسلمانوں کے لیے کیا جاتا ہے۔

آسام کی 126 اسمبلی نشستوں کے لیے انتخابات 9 اپریل کو ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...