آزادی اظہار کے تحفظ کے بجائے عدالت نے ارباب اقتدار کو جوابدہی سے بچنے کا موقع فراہم کیا

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 20, 2026360 Views


علی خان محمود آباد کی پوسٹ کے حوالے سے نہ ایس آئی ٹی اور نہ ہی ہریانہ پولیس عدالت کے سامنے ایسا کوئی ثبوت پیش کر سکے، جس سے ان دو ایف آئی آر کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے پروفیسر کو ’دانشمندانہ‘ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا، مگر ہریانہ حکومت کے لیے کوئی وارننگ جاری نہیں کی۔ اس کی اسی ’فیاضی‘ کے باعث حکومتیں مقتدرہ کی تنقید کرنے والوں کے خلاف جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی مقدمات درج کر کے قانون کا غلط استعمال جاری رکھ سکتی ہیں۔

علی خان محمود آباد اور سپریم کورٹ پس منظر میں۔

’نئے بھارت‘ میں آزادی اظہارکےتحفظ کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ہچکچاہٹ اس ہفتے کے آغاز میں علی خان محمود آباد کیس کے مایوس کن انجام سے بہتر کہیں اور منعکس نہیں ہوسکتی۔

اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر کی اس فیس بک پوسٹ، جو سرسری ہی نہیں بلکہ غور سے پڑھنے پر بھی کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتی، کے حق میں کھڑے ہونے کے بجائے سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت کو بدنیتی پر مبنی چارج شیٹ اور گرفتاری کے باوجود بچ نکلنے کا موقع  دیا۔ مزید یہ کہ عدالت نے محمود آباد کو دی گئی ایک غیر ضروری  ’تنبیہ‘ کو بھی یہ کہہ کر بالواسطہ طور پر درست قرار  دیا کہ پروفیسر  ’مستقبل میں دانشمندی سے کام لیں گے۔ ‘

ایسے میں  ’دانشمندانہ ‘ یہی ہوگا کہ ہم خود کو یاد دلائیں کہ محمود آباد نے آخر لکھا کیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ8مئی 2025 کی ان کی مکمل پوسٹ اب بھی فیس بک پر موجود ہے اور اس میں تین باتیں کہی گئی تھیں۔ پہلی دو میں انہوں نے لکھا کہ ہندوستان اب غیر سرکاری گروپوں (جیسے دہشت گرد یا عسکری تنظیمیں) اور پاکستانی فوج کے درمیان فرق کرنے کو تیار نہیں ہے،یہ تصادم پاکستان کی دین ہے اور بڑے پیمانے پر جنگ کی اندھی حمایت اس مسئلے کا حل نہیں ہے، جو بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا ہے۔

لیکن ان کا تیسرا نکتہ-جس میں آپریشن سیندور کے دوران سرکاری بریفنگ کے لیے ہندوستانی فوج کی ایک مسلم افسر کے استعمال کا ذکر تھا-جو بھارتیہ جنتا پارٹی کو سب سے زیادہ ناگوار گزرا؛

 ’مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ کئی دائیں بازو کے تبصرہ نگار کرنل صوفیہ قریشی کی تعریف کر رہے ہیں، لیکن شاید وہ اتنی ہی زور سے یہ مطالبہ بھی کرسکتے ہیں کہ ماب لنچنگ، من مانی بلڈوزر کارروائیوں اور بی جے پی کی نفرت انگیز سیاست کے متاثرین کو بھی ہندوستانی شہری کے طور پر تحفظ حاصل ہو۔ دو خواتین فوجیوں کا سامنے آ کر جانکاری دینا اہم ہے، مگر یہ محض دکھاوے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ زمین پر بھی نظر آنا چاہیے، ورنہ یہ منافقت  ہی محسوس ہوگی۔

میرے لیے یہ پریس کانفرنس صرف ایک جھلک محض تھی—شاید ایک ایسا اشارہ ،اس ہندوستان کا، جو اس نظریے کو چیلنج کرتا ہے جس کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا۔ جیسا کہ میں نے کہا، عام مسلمانوں کی زمینی حقیقت حکومت کی پیش کردہ تصویر سے مختلف ہے، مگر یہ پریس کانفرنس یہ بھی دکھاتی ہے کہ تنوع میں اتحاد والے ہندوستان کا آئیڈیا مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔

محمودآباد کی اس پوسٹ کے بعد ہریانہ پولیس نے دو ایف آئی آر درج کیں، ایک بی جے پی کے ریاستی سطح کے لیڈر کی شکایت پر اور دوسری ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کی سربراہ کی شکایت پر۔ الزام سنگین تھے، جن میں بھارتیہ نیائے سنہتا کے تحت سیڈیشن (دفعہ 152) جیسے دفعات بھی شامل تھے۔ انہی ایف آئی آر کی بنیاد پر پروفیسر کو حراست میں لیا گیا۔

بظاہر یہ حیران کن ہے کہ بی جے پی محمود آباد کی جانب سے ماب لنچنگ اور من مانی انہدامی کارروائیوں کی یاد دہانی پر ناراض ہو گئی۔ آخر کار، پارٹی کے کئی سینئر رہنما کھلے عام فرقہ وارانہ بیان دیتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف اپنی سیاست کو چھپاتے بھی نہیں۔ مدھیہ پردیش کے ایک وزیر تو اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے کرنل قریشی کی توہین بھی کر دی، مگر اس کے باوجود انہیں ایک دن بھی پولیس حراست میں نہیں گزارنا پڑا۔

ہریانہ بی جے پی کی سوچ جو بھی رہی ہو، محمود آباد کے خلاف دو بے بنیاد شکایات درج کی گئیں اور ہریانہ پولیس کو سمجھ جانا چاہیے تھا کہ کوئی مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ایف آئی آر درج کی گئی اور پھر انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا، جو ان کے اظہار رائے کی آزادی کے آئینی حق کی صریح خلاف ورزی تھی۔

جب یہ معاملہ گزشتہ سال سپریم کورٹ پہنچا تو پروفیسر کو ضمانت مل گئی۔ مگر ایف آئی آر کو منسوخ کرنے اور ہریانہ پولیس و حکومت کو ان کی غیر قانونی کارروائی پر سرزنش کرنے کے بجائے جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے ایک ایس آئی ٹی بنانے کا حکم دیا، تاکہ فیس بک پوسٹ  میں استعمال کی گئی زبان اور بعض جملوں کو  ’مکمل طور پر سمجھا ‘ جا سکے۔

جب محمودآباد کے پوسٹ کی اس نام نہاد  ’پیچیدہ زبان ‘ کی جانچ میں ایس آئی ٹی کو کچھ بھی قابل اعتراض نہیں ملا تو اس نے دائرہ وسیع کر دیا،اس کے تحت ان کے کمپیوٹر میں موجود فائلیں اور بیرون ملک دورے تک کھنگالے جانے لگے۔ محمود آباد کے وکیل کی درخواست پر عدالت کو پولیس کو اس سمت میں آگے بڑھنے سے روکنا پڑا۔

اس پوری قواعد کے آخر میں نہ تو ایس آئی ٹی، نہ ہریانہ پولیس اور نہ ہی اس کے وکیل کوئی ایسا ثبوت پیش کر سکے جو ان دو ایف آئی آر کو جواز فراہم کر سکے۔ اس صورت میں عدالت کو سیدھے سیدھے مقدمہ خارج کر دینا چاہیے تھا اور ایک قدم آگے بڑھ کر ہریانہ حکومت کی سرزنش بھی کر سکتی تھی کہ اس نے  آزادی اظہار کا استعمال کرنے والے شخص کو ہراساں کرنے کے لیے قانون  کا غلط استعمال کیا۔

لیکن اس کے برعکس، 6 جنوری کو چیف جسٹس سوریہ کانت نے تجویز دی کہ ہریانہ حکومت چاہے تو استغاثہ کی منظوری نہ دے تاکہ معاملہ بذات خود ہی ختم ہو جائے۔ 16 مارچ کو حکومت نے یہی راستہ اختیار کیا، یوں وہ نہ صرف کسی منفی عدالتی فیصلے سے بچ نکلی بلکہ مستقبل میں بھی اپنے لیے قانون کے غلط استعمال کی مکمل گنجائش برقرار رکھ لی۔

سپریم کورٹ کے آرڈر میں کہا گیا؛

06.01.2026کے حکم کے احترام میں ہریانہ ریاست کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایس وی راجو نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے اس معاملے میں استغاثہ کی منظوری نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، سونی پت کے جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کی عدالت میں زیر التوا کارروائی، جہاں چارج شیٹ پہلے ہی داخل ہو چکی تھی، استغاثہ کی منظوری نہ ہونے کے باعث بند کی جاتی ہے۔

اس پوری کارروائی سے آخر سپریم کورٹ کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟

ذرا اس امر پر غور کیجیے۔ محمود آباد، جنہوں نے کچھ بھی  غلط نہیں کیا، ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا گویا انہوں نے کوئی سنگین یا بغاوت جیسی بات لکھ دی ہو، حالانکہ عدالت کی بنائی ہوئی ایس آئی ٹی بھی ایسا کچھ ثابت نہ کر سکی۔

اس سے بھی آگے بڑھ کر،  چیف جسٹس سوریہ کانت نے کھلی عدالت میں ایسے ریمارکس دیے، جو بغیرکسی ٹھوس بنیاد کے پروفیسر کی حراست پر سوال اٹھاتے ہیں۔

گزشتہ6 جنوری کی سماعت کے دوران انہوں نے کہا،  ’ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ وہ یہ کہنے لگیں کہ اب میں کچھ بھی لکھوں گا… انہیں بھی بہت ذمہ داری سے کام لینا ہوگا… اگر ریاست نرمی دکھاتی ہے تو ہمیں بھی اتنی ہی ذمہ داری دکھانی چاہیے۔  

یہ غیر ضروری ریمارکس عدالت کے حتمی فیصلے میں بھی نظر آتے ہیں، جہاں کہا گیا،  ’ہمیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہ شک کیا جائے کہ درخواست گزار، جو ایک نہایت عالم پروفیسر اور اپنے شعبے کے ماہر ہیں، مستقبل میں زیادہ احتیاط اور دانشمندی سے کام لیں گے۔ ‘

حکم میں کہیں بھی ہریانہ حکومت کے لیے کوئی وارننگ نہیں ہے، نہ ہی یہ کہا گیا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق استعمال کریں تو پولیس ذمہ داری سے کام کرے۔

اس کے برعکس ، سپریم کورٹ کی اس  ’فیاضی ‘کے بعد ملک بھر کی پولیس اور ریاستی حکومتیں شاید یہی سمجھیں گی کہ وہ اقتدار پر تنقید کرنے والوں کے خلاف جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی مقدمات درج کر کے قانون کا غلط استعمال جاری رکھ سکتی ہیں۔ انہیں یقین رہے گا کہ اگرکبھی ان کے اقدامات کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تو وہ بروقت الزامات واپس لے کر قانونی ذمہ داری سے بچ نکلیں گی۔

انگریزی میں پڑھنے کےلیے کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...