
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’یہ اس بات کا پختہ اشارہ ہے کہ معیشت کی رفتار میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، حالانکہ سرکاری سطح پر مسلسل ترقی کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آر بی آئی کی طرف سے مالیاتی نظام میں بھاری مقدار میں پیسہ جھونکا گیا ہے لیکن اس کے باوجود تجارتی بینکوں کے قرض کی مانگ میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔
جے رام رمیش کے مطابق، جب لوگ یا کمپنیاں قرض لینے سے گریز کرنے لگیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ انہیں مستقبل کے اقتصادی حالات کے حوالے سے یقین نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کارپوریٹ سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے اور اس کا براہ راست اثر جی ڈی پی کی شرحِ نمو پر پڑ رہا ہے۔






