’’اے آئی (آرٹیفیشیل انٹلیجنس) کا فیوئل (ایندھن) ’ڈاٹا‘ ہے، اگر ہمیں اے آئی چلانا ہے تو ڈاٹا پر ہی چلے گا۔ نریندر مودی اے آئی کی باتیں کرتے ہیں، لیکن سارا ڈاٹا امریکہ کو سونپ دیا ہے۔ وہ صرف ملک کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔‘‘ یہ تلخ تبصرہ آج راہل گاندھی نے راجدھانی دہلی کے ’اندرا بھون‘ میں منعقد ’او بی سی کانگریس، وومن نیشنل وِنگ کنونشن‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس دوران انھوں نے بی جے پی اور مودی حکومت کو او بی سی مخالف نظریات کا حامل قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کہتی ہے کہ وہ او بی سی کی مدد کرتی ہے۔ لیکن حقیقت میں ان کی حکومت نے پسماندہ طبقہ کو کچھ نہیں دیا۔ اس لیے آپ کو مل کر کام کرنا ہے اور منظم ہو کر اپنی آواز اٹھانی ہے۔‘‘
اس تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جن سے مخاطب ہوتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’آج سب سے ضروری چیز ڈاٹا ہے۔ اگر امریکہ کو چین سے مقابلہ کرنا ہے تو ہندوستان کے ڈاٹا کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے، کیونکہ ہماری آبادی بہت بڑی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ ڈاٹا آپ کی پونجی ہے، آپ کا مستقبل ہے، جسے نریندر مودی نے مفت میں امریکہ کو دے دیا ہے۔ اتنا کچھ ہو گیا، لیکن میڈیا نے ایک لفظ نہیں بولا۔‘‘
راہل گاندھی نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو ہندوستانی عوام کے لیے بے حد خطرناک قرار دیا۔ انھوں نے اس معاملہ میں امریکہ کے سامنے پی ایم مودی کے مبینہ طور پر سرینڈر کرنے کو افسوسناک بتایا اور کہا کہ ’’امریکہ نے نریندر مودی سے کہا، ہم بتائیں گے کہ آپ کہاں سے تیل خریدیں گے۔ اور مودی نے ’یس سر‘ بول کر بات مان لی۔ امریکہ سے تجارتی معاہدہ ہوا، لیکن ہندوستان کو کچھ نہیں ملا۔ دوسری طرف امریکہ نے بنگلہ دیش سے کہا کہ ہم سے کپاس خریدو گے تو ٹیکس صفر کر دیں گے۔ اس فیصلہ سے ہندوستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہ ہو جائے گی۔‘‘ حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی یہاں (ہندوستان میں) بہت تقریر دیتے ہیں، لیکن ٹرمپ کے سامنے نہیں بول پاتے۔‘‘
راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران پی ایم مودی کو ایک بار پھر ’کمپرومائزڈ‘ وزیر اعظم ٹھہرایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی 100 فیصد کمپرومائزڈ ہیں، اور وہ بلیک میل کیے جا رہے ہیں۔ مودی نے امریکہ سے معاہدہ کر کے ان کے لیے ہندوستان کا بازار کھول دیا۔ امریکہ میں بڑے بڑے کھیت ہیں، وہاں مشینوں سے بڑے پیمانہ پر کام ہوتا ہے۔ ایسے میں کیا امریکہ کے کسانوں کا مقابلہ ہندوستان کے کسان کر پائیں گے؟‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ملک کے کسانوں کی حفاظت کرنا حکومت کا کام ہوتا ہے، لیکن نریندر مودی نے امریکہ سے یہ بھی کہہ دیا کہ ہم ہر سال 9 لاکھ کروڑ روپے کا امریکی مال خریدیں گے۔ اگر ایسا ہوگا تو ہندوستان کے کسانوں و کاروباریوں کا کیا ہوگا؟‘‘
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے نریندر مودی کے بلیک میل ہونے کے پیچھے مبینہ طور پر موجود دباؤ کا ذکر بھی اپنے خطاب میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی بلیک میل ہو رہے ہیں، اس لیے ٹرمپ کے آگے سرینڈر کر چکے ہیں۔ انل امبانی کے اوپر کیس چل رہے ہیں، لیکن وہ گرفتار نہیں ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کے پاس پوری جانکاری ہے۔ اگر انل امبانی نے منھ کھول دیا تو مودی جی کے لیے مصیبت ہو جائے گی۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی بہت پریشان ہیں۔ وہ ٹرمپ، ہردیپ پوری، انل امبانی، ایپسٹین، نیتن یاہو… سب سے گھرے ہوئے ہیں۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































