
محکمہ صحت (ایچ ایچ ایس): یہ محکمہ اپنے 41 فیصد عملے کو چھٹی پر بھیجنے کی تیاری میں ہے۔ اس سے صحت عامہ پیغامات، دواؤں کی نگرانی اور میڈیکل ریسرچ ٹھپ ہو سکتے ہیں۔
سی ڈی سی: اس محکمہ کا 64 فیصد عملہ گھر بیٹھ جائے گا۔ اوپی آئیڈ بحران، ایچ آئی وی روک تھام اور ذیابیطس جیسے معاملوں پر ریاستوں کو کوئی ہدایت نہیں مل پائے گی۔
این آئی ایچ: اس محکمہ کے 75 فیصد ملازمین کو چھٹی پر بھیجا جائے گا۔ اس سے ریسرچ اور گرانٹ ریویو پوری طرح ٹھپ ہو جائے گا۔
ایف ڈی اے: یہاں 86 فیصد عملہ ڈیوٹی پر رہے گا، لیکن ادویات کی منظوری کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
میڈی کیئر اور میڈی کیڈ سروسز: تقریباً نصف ملازمین باقی رہیں گے، جس سے ضروری خدمات جاری رہیں گی۔






