
بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کا مقصد یہ تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ممالک کو ضروری دفاعی اقدامات کی اجازت دی جائے۔ تاہم روس کے ویٹو نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور سمندری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر امریکہ کے لیے کسی بڑے فوجی اقدام کو قانونی جواز فراہم کرنا مشکل ہوگا۔ روس اور چین پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی یکطرفہ کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کریں گے۔ اس کے باوجود امریکہ ماضی میں ’آزادیٔ نقل و حرکت‘ کے نام پر بین الاقوامی پانیوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھتا آیا ہے۔





