’آبنائے ہرمز پر اب امریکہ کا کنٹرول، ایران کے 100 سے زائد جہازوں کو غرق کر دیا‘، ٹرمپ کا سنسنی خیز دعویٰ

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 16, 2026358 Views


امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں 7000 سے زائد ٹھکانوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ ایرانی حکومت کو ختم کرنے کے لیے ہماری طاقتور فوجی مہم گزشتہ کچھ دنوں سے جاری ہے اور انھیں تقریباً تباہ کر دیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز اور ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز اور ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر اے آئی</p></div>

i

user

مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری ہے اور ایران و امریکہ دونوں ایک دوسرے کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اس درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے، جو آبنائے ہرمز سے متعلق ہے۔ انھوں نے 16 مارچ کو دعویٰ کیا کہ اب آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی فوجی طاقت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران میں 7000 سے زائد ٹھکانوں پر حملے کیے جا چکے ہیں اور ہر طرف تباہی کا منظر ہے۔ ایک طرف تو ٹرمپ ایران کو شکست دینے کا دعویٰ کر رہے ہیں، دوسری طرف دیگر ممالک سے تعاون کی اپیل بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ چین اور جاپان سے چاہتے ہیں کہ آ کر امریکہ کی مدد کریں۔ حالانکہ جاپان نے پہلے ہی آبنائے ہرمز معاملہ میں امریکہ کی فوجی مدد سے منع کر دیا ہے۔

بہرحال، تازہ بیان میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ایرانی حکومت کو ختم کرنے کے لیے ہمارا طاقتور فوجی آپریشن گزشتہ چند دنوں سے پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ انہیں تقریباً تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کی فضائیہ اور بحریہ ختم ہو چکی ہے۔ ان کے 100 سے زیادہ جہاز اور کئی جنگی بحری جہاز غرق کر دیے گئے ہیں۔ ان کا اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم اور رڈار تباہ ہو چکا ہے اور ان کے کئی لیڈران بھی مارے گئے ہیں۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ایرانی لیڈران گزشتہ 47 سالوں سے دہشت پھیلا رہے تھے اور اب ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، جو کئی سال پہلے ہونی چاہیے تھی۔‘‘

امریکی صدر نے اس جنگ میں اب تک کے مجموعی نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جنگ کے آغاز سے ہی ہم نے ایران میں 7000 سے زیادہ مقامات پر حملے کیے ہیں، جن میں بیشتر تجارتی اور فوجی ٹھکانے شامل تھے۔ ان کے بیلسٹک میزائل لانچ میں 90 فیصد اور ڈرون حملوں میں 95 فیصد کمی آ گئی ہے۔ ہم نے میزائل اور ڈرون بنانے والے کارخانوں پر بھی حملے کیے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ آج ہی ہم نے ایسے 3 مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہم نے خرگ جزیرہ پر حملہ کیا اور اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ہم نے جزیرے پر موجود تیل کے ذخائر کے علاقے کو چھوڑ کر باقی سب کچھ تباہ کر دیا۔ ہم نے پائپ لائنیں وہیں رہنے دیں۔ ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے، لیکن ہمیں ایسا کرنا پڑا۔ مستقبل میں اس ملک (ایران) کی تعمیر نو کے مقصد سے میرا خیال ہے کہ ہم نے درست قدم اٹھایا۔ اب ایران دوبارہ اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو بڑھا نہیں سکے گا کیونکہ ہم نے اسے تباہ کر دیا ہے۔‘‘

آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو ہم نے بہت اچھی حالت میں برقرار رکھا ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’ہم پہلے ہی ایران کو قابو میں کر چکے ہیں۔ چونکہ یہ ایک تنگ سمندری راستہ ہے، اسی لیے ایران ہمیشہ اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ ایران نے اسے اکثر اقتصادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، لیکن اب وہ اسے زیادہ عرصہ تک استعمال نہیں کر سکے گا۔ کئی ممالک نے مجھے بتایا ہے کہ وہ اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ کچھ ممالک اس کے لیے بہت پُرجوش ہیں اور کچھ وہ ممالک ہیں جن کی ہم نے کئی سالوں تک مدد کی ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...